Pakistan News

وزیرستان میں جیو نیوز کا نمائندہ قتل

میران شاہ: پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی ٹی وی جیو نیوزکے نمائندے مملک ممتاز کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملک ممتاز قریبی گاؤں سے تعزیت کے بعد شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں واقع اپنے گاؤں جارہے تھے اس دوران نامعلوم افراد نے تعاقب کرکے چشمہ پل کے قریب ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر دم توڑ گئے۔

مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ملک ممتاز کئی سال سے جیو نیوز سے وابستہ تھے اور ان کا شمار ذمہ دار صحافیوں میں کیا جاتا تھا۔وہ مقامی جرگے کے رکن تھے اور چند روز قبل میران شاہ پریس کلب کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

انہوں نے بیوی، 2 بیٹے اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔

واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، کسی گروپ نے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تحریک طالبان نے واقعہ سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے صحافی کے قتل کی مذمت کی ہے۔

قبائلی علاقوں کے صحافیوں پر مشتمل ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر نوربہرام نے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی پریس مہم کے شام اور صومالیہ کے بعد پاکستان صحافیوں کیلئے تیسرا خطرناک ملک ہے جہاں اب تک دس افراد اپنے فرض نبھاتے ہوئے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ملک ممتاز کو قتل کرکے دیگر صحافیوں کو پیغام دیا گیا ہے جب کہ اے آر وائی نیوز سے وابستہ اینکر پرسن مظہر عباس نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کے بہیمانہ قتل کا خود نوٹس لیں۔

Most Popular

To Top