Pakistan News

انتخابی مہم میں بلاول کا کردارغیریقینی

اسلام آباد : پاکستان کی سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی نے اپنے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری کی اپنے والد اور پھوپھی سے اختلافات کی خبروں کو مسترد کردیا ہے تاہم یہ  اعتراف کیا ہے کہ انتخابی مہم میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہوگا۔

اگر ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی کیلئے آنے والے انتخابات آسان ثابت نہیں ہوں گے کیونکہ بلاول اس جماعت میں بھٹو خاندان کے واحد مرد وارث ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نوجوان زرداری سیکورٹی وجوہات کی بناء پر دبئی منتقل ہوئےاور وہ انتخابی مہم کے دوران ریلیوں میں شرکت نہیں کریں گے۔

دوسری جانب صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نےاس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کا حصہ ہوں گے۔

علاوہ ازیں ایک برطانوی اخبار انڈیپنڈیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کا کوئی موقع ہاتھ  سے جانے نہیں دیتے تاہم ان کی انتخابی مہم دہشتگرد حملوں کے ڈر سے بری طرح متاثر ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی عدم برداشت 2007ء کے مقابلے میں بڑھ چکی ہے اور بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی مسلح کارروائیاں اور ملک کے دیگر حصوں میں طالبان عسکریت پسندوں کا زور بڑھا ہے۔

اسی طرح طالبان نے 3 بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو براہ راست حملوں کی دھمکی دی ہے۔

اس حوالے سے پیپلزپارٹی کےرہنما اور سابق وزیر اطلاعات  قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بہت کم ریلیوں میں شرکت کریں گے اور اکثر اوقات وہ ویڈیو لنک یا فون کے ذریعے ہجوم سے خطاب کریں گے،انکا کہنا تھا کہ سیکورٹی خدشات کی بناء پر بلاول ہر جگہ نہیں جاسکتے۔

رپورٹ کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو بھی انہی مشکلات کا سامنا ہے اور وطن واپسی پر انہیں سیکورٹی کے باعث کراچی میں جلسہ منسوخ کرنا پڑا جبکہ ریٹائرڈ فوجی کمانڈوز اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت فوجی و پولیس گارڈز ان کی حفاظت پر مامور ہیں۔

اے این پی کے ترجمان زاہد خان کا کہنا ہے کہ جب ایک جماعت اپنی انتخابی مہم سیکورٹی کے باعث آزادی سے نہیں چلا سکتی تو پھر ان انتخابات کو آزاد و شفاف کیسے کہا جاسکتا ہے؟

 طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے عمران خان بھی سیکیرٹی خدشات  ہی وجہ سے اب بلٹ پروف گاڑی میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

پی ٹی آئی کے ترجمان شفقت محمود کا کہنا ہے کہ صورتحال بہت مشکل ہے اور ہمیں انتخابات میں حصہ لینے کے ساتھ سیکورٹی کا بھی خیال رکھنا پڑے گا اور یہ کام آسان نہیں

Most Popular

To Top